ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / جوہر یونیورسٹی کے معاملے میں اعظم خان کو سپریم کورٹ سے راحت؛ یونیورسٹی کے ایک حصے کو منہدم کرنے کی شرط پر لگائی روک، یوپی سرکارکونوٹس

جوہر یونیورسٹی کے معاملے میں اعظم خان کو سپریم کورٹ سے راحت؛ یونیورسٹی کے ایک حصے کو منہدم کرنے کی شرط پر لگائی روک، یوپی سرکارکونوٹس

Sat, 28 May 2022 10:16:53    S.O. News Service

لکھنؤ،28؍ مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) سماجوادی پارٹی کے سینئر لیڈر  اور اتر پردیش کے رکن اسمبلی اعظم خان کو جوہر یونیورسٹی کے معاملے میں جمعہ کو سپریم کورٹ سے بڑی راحت مل گئی۔ عدالت نے جوہر یونیورسٹی سے متعلق ایک مقدمے میں انہیں ضمانت دیتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ عائد کی گئی اُس شرط پر روک لگادی  جس کی رُو سےجوہر یونیورسٹی کا ایک حصہ منہدم کیا جانا تھا۔ کورٹ نے الہ آباد ہائی کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی اس شرط کو  بے ڈھنگی قرار دیتے ہوئے اس سلسلے میں یو پی  سرکار کو بھی نوٹس جاری کردیاہے۔ 

 یاد رہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے جو ہر یونیورسٹی سے متعلق ایک کیس  میں اعظم خان کو اس شرط پر ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیاتھا کہ ضلع مجسٹریٹ  یونیورسٹی کی 13.8؍ ہیکٹرزمین اپنے قبضےمیں لے لیں گے۔مقامی  انتظامیہ  مذکورہ زمین    پر تعمیراتی کام کو آئندہ چند دنوں میں منہدم کرنے کی تیاری کررہاتھا۔ سپریم کورٹ میں  جسٹس  ڈی وائی چندر چوڈ کی  بنچ نے نہ صرف الہ آباد ہائی کورٹ کی مذکورہ شرط پر روک لگادی بلکہ یوپی  سرکار کو اس سلسلے میں نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ یہ شرط نہ صرف بے ڈھنگی ہے بلکہ کسی  سوِل کورٹ  کے حکم جیسی ہے۔ 

  سپریم کورٹ میں اعظم خان کی پیروی سینئر وکیل کپل سبل نے کی جنہوں نے پیر کو سماجوادی پارٹی کی تائید سے راجیہ سبھا کیلئے آزاد امیدوار کے طور پر پرچہ داخل کیا ہے۔ انہوں نے کورٹ کو بتایا کہ رام پورکے ضلع مجسٹریٹ نے ایک نوٹس جاری کرکے مذکورہ زمین پر موجود عمارتیں خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ان کا ارادہ ان عمارتوں کو منہدم کرکے زمین کو ایکوائرکرنے کا ہے۔ 

الہ آباد ہائی کورٹ نے اعظم خان کو ضمانت  پر رہاکرتے ہوئے سیتاپور ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ ۳۰؍ جون تک مذکورہ زمین کو اپنی تحویل میں لے لے۔ یہی وجہ  ہے کہ جیل سے دو سال قید کے بعد رہا ہونے والے اعظم خان نے پہلی قانونی لڑائی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کی لڑی۔  ہائی کورٹ کے فیصلے پر ناپسندیدگی کااظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اب خود اس پر شنوائی کرنے کافیصلہ کیا ہے۔ کالعدم قرار دیئے گئے حکم  کے پیرا گراف 36 میں ہائی کورٹ  نے اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ ملزم کو ان کی عمر اور ان کی طبی حالت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ضمانت پررہا کرنے کا حکم سنایا جارہاہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی کورٹ کی نظر میں  ہے کہ ملزم  کے خلاف استغاثہ نے جو دیگر مقدمات قائم کئے ہیں ان سب میں اسے ضمانت مل چکی ہے۔‘‘ جسٹس چندر چوڈ کی ایک رکنی بنچ نے مزید کہا کہ مذکورہ شرط کی وجہ سے الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ ضمانت کی عرضی پر سنائے گئے فیصلے کے برخلاف کسی زمین کے مالکانہ حقوق سے متعلق مقدمے کا فیصلہ معلوم ہوتا ہے۔ 

  عدالت کے اس حکم کے بعد ضلع انتظامیہ کے وہ نوٹس بھی کالعدم ہوجائیں گے جو اس نے جوہر یونیورسٹی کی زمین کو خالی کرنے کیلئے جاری کئے ہیں۔ کپل سبل نے سپریم کورٹ کو جب یہ بتایا کہ ’’دیکھئے اب وہ کیا کرنے جارہے ہیں،و ہ عمارتیں ہی منہدم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘‘ تو کورٹ نے نشاندہی کی کہ مذکورہ نوٹس الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کی بنیاد پر جاری کئے گئے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اعظم خان کو ہدایت دی کہ وہ مذکورہ فیصلے کو کالعدم کرنے کے سپریم کورٹ  کے تازہ فیصلے سے ضلع مجسٹریٹ کو آگاہ کریں تاکہ وہ اس نوٹس کو واپس لیں کیوں کہ اس پر روک لگادی گئی ہے۔ اس کیلئے انہیں سب ڈویژنل مجسٹریٹ سےرجوع ہونے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 


Share: